Sports Workers Helpline

Industries That will Open Tomorrow = Complete List

Which industries will the government allow to operate?

Minister for Industries Hammad Azhar has announced a list of industries the government has identified as “low-risk” and will be allowed to operate despite the partial lockdown.

The industries are as follows:

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر حماد اظہر نے آگاہ کیا کہ اشیائے ضروریہ، توانائی، ذرائع ابلاغ، بینکاری اور ریلیف سے متعلقہ تمام صنعتیں پہلے سے ہی کھلی ہیں اور ان کو کھلا رکھنے پر وفاق اور تمام اکائیوں میں اتفاق رائے تھا۔

انھوں نے کہا کہ اب ایسی صنعتیں کل سے کھولی جا رہی ہیں جہاں سے وبا کے پھیلنے کے خطرات کم ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ صوبوں سے مشاورت کے بعد مندرجہ ذیل صنعتیں کھولی جا رہی ہیں:

کیمیکل مینوفیکچرنگ پلانٹس، ای کامرس، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور پروگرامنگ، پیپر اینڈ پیکجنگ یونٹس، سیمنٹ پلانٹس، فرٹیلائزر پلانٹس، مائنز اینڈ منرلز، ڈرائی کلینر سروسز، پودوں کی نرسریاں، زراعت کی مشینری اور آلات بنانے والے یونٹس، گلاس مینوفیکچرنگ یونٹس، جانوروں کو طبی امداد فراہم کرنے والی سروسز بشمول جانوروں کے ہسپتال، تمام ایکسپورٹ انڈسٹریز بشرطیکہ ان کے ایکسپورٹ آرڈرز کی پہلے تصدیق کی جائے گی، کتابوں اور سٹیشنری کی دکانیں، اینٹوں کے بھٹے اور بجری کے کرشنگ پلانٹس۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ یہ تمام صنعتیں ان حفاظتی اقدامات کے بعد کھولی جائیں گی جن کا ان ایس او پی میں ذکر ہے اور جو صوبوں کو پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا صوبوں اور مرکز میں دو جگہ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

’الیکٹریشن، پلمبرز، ترکھان، درزی، ریڑھی اور چھابڑی لگانے والوں کے حوالے سے وفاق کی رائے تھی کہ ان کو کھولا جائے تاکہ ان کا روزگار بحال ہو سکے مگر بعض صوبوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

حماد اظہر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو بتدریج کھولا جائے گا تاہم کنسٹرکشن سائٹس کو کھولنے کے حوالے سے بھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صنعتوں کو کھولنے کے حوالے سے نظر ثانی جاری رہے گی اور رمضان سے قبل مزید صنعتیں بھی کھولی جائیں گی۔